سپریم کورٹ،270 کنال سرکاری اراضی نجی شخص کو منتقل کرنیوالے پٹواری کی برطرفی کا فیصلہ بحال

سپریم کورٹ نے جھنگ میں 270 کنال سرکاری اراضی نجی شخص کو منتقل کرنے والے پٹواری اللہ بخش کی برطرفی کا فیصلہ بحال کر دیا ۔کیس  کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے سیکرٹری ممبر بورڈ آف ریونیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پٹواری سرکاری زمین فروخت کر رہا ہے اورحکومت نے اپیل پر ٹائم بارڈ کروا دیا ،اس معاملے پر آپ بھی ملوث ہیں آپ کوبھی بھگتنا پڑے گا، سالانہ سیکرٹری تبدیل ہوتے ہیں یہ کیا ماجرا ہے؟آپ آفیسر کی طرح بات کریں ،سیکرٹری صاحب، ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں،جو غلطی پٹواری نے کی اس سے بڑی غلطی لاء افسر کرے تو کیا ہوگا؟پٹواری نے جتنی تنخواہ اور مراعات لیں وہ ان لاء افسران سے ریکور کریں۔سیکرٹری ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب بابر حیات تارڑ نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ میرے آنے سے قبل کا ہے،تقرریاںحکومت کا کام ہے ہمارا نہیں،ہم نے اسی طرح دو کیسسز میں ذمہ داران کو انکوائری کر کے سزا بھی دی ہے۔ جسٹس اعجاز لاحسن نے ایک موقع پر ریمارکس دیئے کہ یہاں لوگ ملی بھگت سے ڈیپارٹمنٹ میں ٹائم بارڈ کرتے ہیں تاکہ عدالت میں آکر اپیل خارج ہو،ٹائم بارڈ پر جو اپیلیں خارج ہوتی ہیں، ان پر ڈیپارٹمنٹ کوذمہ داران کے خلاف انکوائری کرنی چاہیے۔ عدالت نے اس موقع صوبائی سروس ٹربیونل کا فیصلہ قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازم کا یہ اقدام محض غفلت نہیں، سرکاری زمین پرائیوٹ لوگوں کو نہیں دی جاسکتی۔عدالت عظمیٰ نے پنجاب حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے پٹواری کی برطرفی کا فیصلہ بحال کر دیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں